کمپیوٹر کی مختصر تاریخ

یہ کہنا مشکل ہے کہ پہلا کمپیوٹر کس چیز کو قرار دیا جائے، یا یہ کہ کمپیوٹر کی تاریخ کہاں سے شروع ہوجاتی ہے کیوں کہ کمپیوٹر کی جو درجہ بندی کی جاتی ہے اس میں کلائی کی گھڑی سے لے کر جدید سپر کمپیوٹرزتک سب  شامل ہیں۔

لفظ کمپیوٹر پہلے سترہویں صدی میں استعمال ہوا جس کا مطلب حساب کتاب کرنے والا شخص تھا۔ اس مضمون میں ہم کمپیوٹر کی تاریخ پر بحث کریں گے جس کا آغاز وہاں سے کریں گے جہاں سے جدید کمپیوٹر ایج تک کی راہ ہموار ہوئی۔

پہلا مشینی کمپیوٹر

چارلس بیبیج (Charles Babbage) نے 1822 میں ایک مشین بنانا شروع کیا جس کو ڈیفرنس انجن کا نام دیا گیا۔ اس مشین کو حساب کتاب کرنے والا پہلا خود کار مشین سمجھا جاتا ہے۔اس مشین میں اعداد کے کئی سیٹس کا حساب کتاب کرنے کی اہلیت تھی۔

چارلس بیبیج ہی نے 1837 میں ایک مشینی کمپیوٹر تجویز کیا جس کو اس نے “اینالیٹیکل انجن” کا نام دیا۔ مجوزہ مشین کئی حصوں پر مشتمل تھی جس میں فلو کنٹرول، ڈیٹا انٹری کرنے کے لئے پنچ کارڈز، حساب کتاب کرنے والا یونٹ اور میموری شامل تھے۔ چارلس بیبیج اس پراجیکٹ کو مالی مسائل کی وجہ سے خود مکمل نہ کرسکے تاہم اس مشین کا کچھ حصہ بعد ازاں ان کی زندگی میں ہی اُن کے بیٹے ہنری بیبیج نے 1910 میں بنادیا۔ یہ مشین اگر چہ چارلس بیبیج کی تجویز کردہ مشین کے مطابق نہیں تھی لیکن بنیادی حساب کتاب کرنے کے اہل تھی۔

پہلا مشینی کمپیوٹر

پہلا پروگرام ایبل کمپیوٹر

کونرڈ زیوس نے 1938 میں بجلی سے کام کرنے والا ایک مشینی کمپیوٹر بنایا جس کو باقاعدہ پروگرام کیا جاسکتا تھا۔ اس مشین کو پہلا حقیقی اورفعال کمپیوٹر مشین سمجھا جاتا ہے۔ کونرڈ زیوس کے اس مشین کو “زیڈ ون” کا نام دیا گیا۔

پہلا پروگرام ایبل کمپیوٹر

ٹیورنگ مشین

ایلن ٹیورنگ نے 1936 میں “ٹیورنگ مشین” تجویز کیا جس کو جدید کمپیوٹر کی طرف سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ اُن کی تجویز کردہ مشین کو آج بھی درس گاہوں میں پڑھا یا جاتا ہے۔ ٹیورنگ مشین میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ ہدایات کے ایک سیریز کے مطابق چلتے ہوئے کاغذ پرحروف یا علامات پرنٹ کرے۔ یہ مشین ایک سادہ سی انفارمیشن پراسیسر تھی جو دئے گئے ہدایات کے مطابق چلتے ہوئے ڈیٹا پڑھتی تھی،نتیجہ پرنٹ کرتی تھی اور پھر اگلے انسٹرکشن کی طرف جاتی تھی۔

پہلا برقی پروگرام ایبل کمپیوٹر

ٹامی فلاورز نے 1943 میں پہلا برقی پروگرام ایبل کمپیوٹر بیایا جس کو “کولوسس” کا نام دیا گیا۔ یہ وہ مشین ہے جس نے دوسری جنگِ عظیم میں جرمنوں کے پیغامات سمجھنے میں برطانویوں کی مدد کی۔

کولوسس۔ پہلا برقی پروگرام ایبل کمپیوٹر

پہلا ڈیجیٹل کمپیوٹر

جان ونسنٹ اٹاناسوف اور کلف بیری نے 1942 میں”اے بی سی” نامی مشین تخلیق کی۔ یہ ایک برقی کمپیوٹر تھا جس میں تقریباً تین سو ویکیوم ٹیوبز استعمال کئے گئے۔ ویکیوم ٹیوبز ٹیکنالوجی کمپیوٹر کے ابتدائی ادوار میں حساب کتاب اور میموری کے لئے استعمال کی جاتی تھی۔

جے پریسپر اور جان موشلے نے 1946 میں ENIAC نامی ڈیجیٹل کمپیوٹر بنایا جو اٹھارہ ہزار کے قریب ویکیوم ٹیوبز پر مشتمل تھا۔ اٹھارہ سو مربع فٹ جگہ گھیرنے والی یہ مشین “اے بی سی” کے مقابلے میں ایک مکمل کمپیوٹر تھی۔ ان دونوں مشینوں کو پہلا ڈیجیٹل کمپیوٹر سمجھا جاتا ہے۔

پہلا ڈیجیٹل کمپیوٹر

ریم کے ساتھ پہلا کمپیوٹر

وھرل وائینڈ مشین جو کہ 1955 میں ایم آئی ٹی میں متعارف کروایا گیا تھا، کو ریم کے ساتھ پہلا کمپیوٹر سمجھا جاتا ہے۔ اس مشین میں مقناطیسی ریم شامل کیا گیا تھا۔

ریم کے ساتھ پہلا کمپیوٹر

پہلا ڈسک ٹاپ کمپیوٹر

1964 میں نیویارک کے عالمی میلے میں “Olivitti” نامی ادارے کا بنایا گیا کمپیوٹر “پروگراما 101” متعارف کرایا گیا۔ یہ کمپیوٹر 44000 کی تعداد میں فروخت ہوا۔ کچھ ہی عرصہ بعد 1968 میں ایچ پی نے “9100A” نامی کمپیوٹر متعارف کروایا۔ اس کو پہلا ماس مارکیٹ کمپیوٹر سمجھا جاتا ہے، یعنی جو باقاعدہ مارکیٹ کیا گیا اور بڑی تعداد میں فروخت ہوا۔

پہلا ورک سٹیشن

1974 میں Xerox Alto نامی پہلا ورک سٹیشن متعارف کروایا گیا۔ یہ ایک مکمل کمپیوٹر تھا جس کے ہارڈ وئیر میں ڈسپلے اور ماؤز بھی شامل تھے۔ آج کے جدید کمپیوٹر کی طرح اس میں ونڈوز، مینوز اور آئکنز شامل تھے۔

پہلا مائکرو پروسیسر

نومبر 1971 میں انٹل نے پہلا مائکرو پروسیسر متعارف کرایا گیا جس کو انٹل 4004 کا نام دیا گیا۔

پہلا پورٹیبل کمپیوٹر

1975 میں آئی بی ایم نے “آئی بی ایم 5100” نامی کمپیوٹر متعارف کرایا جس میں ایک ڈسپلے، ٹیپ ڈرائیو ایک اعشاریہ نو میگا ہارٹز پروسیسر اور 64 کے بی ریم  لگا ہوا تھا۔  اس مشین کو پہلا پورٹیبل کمپیوٹر سمجھا جاتا ہے۔

پہلا پورٹیبل کمپیوٹر

پہلا لیپ ٹاپ کمپیوٹر

ایڈم اوسبورن نے 1981 میں پہلا لیپ ٹاپ کمپیوٹر بنایاجس کو “اوسبورن ون” کا نام دیا گیا۔ تقریباً پچیس پاؤنڈ وزن کے حامل اس لیپ ٹاپ میں ایک پانچ انچ ڈسپلے، دو فلاپی ڈرائیوز، 64 کے بی کا ریم اور ایک موڈیم شامل تھا۔

پہلا لیپ ٹاپ

پہلا پرسنل کمپیوٹر

1981 میں ہی ائی بی ایم نے پہلا پرسنل کمپیوٹر (پی سی) بنایا جس کو “آئی بی ایم پی سی” کا نام دیا گیا۔ اس کے پراسیسر کو 8088 کا نام دیا گیا۔ اس کی ریم میموری 16 کے بی تھی جس کو 256 کے بی تک بڑھایا جاسکتا تھا۔ اس کمپوٹر کو MS-DOS سے اپریٹ کیا جاتا تھا۔

پہلا پرسنل کمپیوٹر

ونڈوز 1 اور ونڈوز 2

مائکروسافٹ نے 1985 میں ونڈوز 1 ریلیز کردی جو کہ مائکروسافٹ ونڈوز کا پہلا ورژن تھا۔ MS-DOS کے اوپر بنائی گئی یہ 16 بٹ ونڈوزملٹی ٹاسکنگ کے خصوصیات کی حامل ونڈوز تھی۔ مائکروسافٹ نے بعد ازاں ونڈوز کا دوسرا ورژن ریلیز کردیا جو ونڈوز 2 کہلایا۔ اس ونڈوز میں ایک ساتھ کئی ایپلی کیشنزچلانے کی صلاحیت اور بہتر کی بورڈ شارٹ کٹس کا اضافہ کردیا گیا۔

ونڈوز 1

پہلا ملٹی میڈیا کمپیوٹر

ریڈیو شیک نامی کمپنی نے 1992 میں دو کمپیوٹر متعارف کروائے جن میں ملٹی میڈیا سپورٹ شامل تھی۔ ان کمپیوٹرز کو M2500 XL/2 اور M4020 SX نام دئے گئے۔ یہ کمپیوٹرویڈیو، گرافکس، اینیمیشنز اور آواز پر مشتمل پروگرامز چلانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

1990 کے بعد کی تاریخ

1990 – سرن لیبارٹریز میں کام کرنے والے ٹم برنر لی نے ایچ ٹی ایم ایل لینگویج متعارف کروائی۔ جبکہ مائکرو سافٹ نے ونڈوز کا تیسرا ورژن ریلیز کردیا جس کو ونڈو کا پہلا کامیاب ورژن سمجھا جاتا ہے۔

1992 – مائکروسافٹ نے ونڈوز 3.1 ریلیز کردی جو پہلے ورژن کے مقابلے میں کافی بہتر تھی۔

1994 – کمپیوٹرز پر چلائے جانے والے گیمز متعارف کروائے گئے۔

1995 – مائکرو سافٹ نے ونڈوز 95 ریلیز کردی جس میں ونڈوز اور ایم ایس ڈاس دونوں کو اکھٹا کیا گیا تھا۔

1996 – گوگل نے اپنی معروف سرچ انجن متعارف کرائی۔

1998 – مائکرو سافٹ نے ونڈوز 98 ریلیز کردی۔

1999 – دنیا میں وائرلیس انٹرنیٹ کا آغاز ہوا۔

2001 – ایپل نے میک آپریٹینگ سسٹم ایکس ریلیز کردیا جو کہ 1984 میں ریلیز کردہ میک آپریٹینگ سسٹم کی پہلی مکمل ریویژن تھی۔ یونیکس کے بنیاد پر بنایا گیا یہ آپریٹینگ سسٹم بعد میں آپریٹینگ سسٹم ایکس اورپھر macOS کہلایا۔

2003 – پہلا 64 بٹ پروسیسر متعارف کروایا گیا۔

2004 – موزیلا فائر فوکس اور فیس بُک متعارف کروائے گئے۔

2005 – مشہور ویڈیو شئیرنگ ویب سائٹ یو ٹیوب لانچ کی گئی جس کو بعد میں گوگل کو فروخت کیا گیا۔

2006 – ایپل نے میک بُک پرو ریلیز کردیا جس کو پہلا ڈوول کورلیپ ٹاپ سمجھا جاتا ہے۔

2007 – سٹیو جابز نے  پہلا آئی فون لانچ کردیا۔

2009 – مائکرو سافٹ نے ونڈوز 7 ریلیز کردی جو اپنے وقت کا ایک انقلابی آپریٹینگ سسٹم سمجھا جاتا ہے۔

2010 – ایپل نے آئی پیڈ لانچ کردیا۔ یہ ورچوئل کی بورڈ کے ساتھ ایک ملٹی ٹچ کمپیوٹر تھا۔

2011 – گوگل نے کروم بُک متعارف کروایا جو کہ گوگل کے کروم آپریٹینگ سسٹم پر چلتا ہے۔

2015 – مائکروسافٹ نے ونڈوز 10 ریلیز کردی جبکہ ایپل نے ایپل سمارٹ واچ متعارف کرائی۔

2016 – چین کے “سن وے تائی ہو لائٹ” سپر کمپیوٹر کو دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر قراردیا گیا۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *